بلوچستان (چیغہ نیوز ) آج سے ٹھیک 15 برس قبل ایک فوجی آپریشن میں مارے جانے سے بہت پہلے ڈیرہ بگٹی میں صحافیوں سے بات چیت اور انٹرویوز کے دوران اکبر بگٹی اس بات کا برملا اظہار کرتے رہے کہ انھیں اور نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نوابزادہ بالاچ مری کو مارنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔وہ یہ کہتے رہے کہ ’اگر انھوں نے مجھے مارنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ اُن کا فیصلہ ہے لیکن میں کس طرح مارا جاﺅں گا یہ فیصلہ اُن کا نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا انتخاب میں نے کرنا ہے کہ مجھے کس طرح مرنا ہے۔‘

زندگی کے آخری حصے میں بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے نواب بگٹی کے لیے اپنے گھر میں بھی بہت زیادہ چلنا ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے سنہ 2005 کے اواخر میں اپنا گھر چھوڑا اور پہاڑوں کا رُخ کیا اُس وقت ان کی عمر لگ بھگ 78 برس تھی۔
جس پہاڑی علاقے میں ڈیرہ بگٹی منتقل ہوئے تھے وہاں پر 26 اگست 2006 کو آپریشن کے دوران اپنے متعدد ساتھیوں سمیت مارے گئے۔اگرچہ نواب بگٹی کے مارے جانے سے پہلے سنہ 2000 میں ہی بلوچستان کے حالات خراب ہونے شروع ہو گئے تھے لیکن نواب بگٹی کے مارے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ،شورش کا دائرہ بلوچستان کے متعدد علاقوں تک پھیل گیا۔

نواب محمد اکبر خان بگٹی نے جب پہاڑ کی چوٹی پر دو افراد کے کندھوں کا سہارا لے کر چلنا شروع کیا تو وہ لمحہ فوٹو گرافر بنارس خان کے لیے تصویر بنانے کا بہترین موقع تھا۔بیماری، ایک پیر کے مکمل ناکارہ ہونے اور پیرانہ سالی کے باعث نواب بگٹی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ لوہے کی چھڑی اور دو افراد کے سہارے کے
بغیر زیادہ دیر تک چل پھر سکتے۔ تین سہاروں کے ساتھ اگر ان کی تصویر میڈیا
میں شائع ہوتی تو شاید یہ ان کی صحت کی کمزوری کی عکاسی کرتی، اس لیے انھوں نے فوٹو گرافر کو تصویر لینے سے پہلے اپنے پاس بلا کر ایک خاص بات کہی۔
انھوں نے فوٹو گرافر کو کہے ’او پشتون، میری تصویر اس طرح نہیں لینا جس سے دشمن یہ سمجھے کہ بگٹی کمزور ہو گیا ہے۔